افغان صوبے غزنی کی جیل پر طالبان کا حملہ۔۔۳۵۵ قیدیوں کو چھڑا لے گئے

ghazni-jail

افغانستان کے جنوبی افغان صوبے غزنی کی ایک جیل پر متعدد طالبان خودکش بمباروں کے ایک کامیاب حملے میں ۳۵۰ کے قریب قیدی چھڑا لیے گیے ہیں۔ جبکہ افغان پولیس کے چار اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پیر کو علی الصبح (تقریباً دوبجے) طالبان کا حملہ اس قدر اچانک تھا کہ کسی کو سنبھلنے تک کا موقع نہیں مل سکا۔غزنی جیل شہر سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ طالبان حملہ آور فوجی وردیوں میں ملبوس تھے۔ غزنی کی صوبائی حکومت کے ترجمان شفیق اللہ ننگ کے مطابق دس کے قریب طالبان حملہ آوروں میں سے ایک نے سب سے پہلے جیل کے مرکزی دروازے کو بارود سے بھری گاڑی سے اڑا دیا اور اس طرح جیل میں دیگر حملہ آوروں کے داخلے کا راستا بنا یا۔ جس کے بعد باقی طالبان حملہ آور جیل میں داخل ہو کراپنے ۳۵۵ ساتھیوں کو نہایت آسانی سے چھڑا لے گیے۔حملے کے وقت مذکورہ جیل میں تقریباً ۴۲۰ کے قریب قیدی موجود تھے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اِسے ایک مربوط اور کامیاب کارروائی قرار دیا ہے۔ جس میں اُن کے مطابق طالبان کے اعلیٰ سطحی مجاہدین سمیت تقریباً چار سو قیدیوں کو رہا کرایا گیا ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے جیلوں پر حملے اُن کے جنگی حکمتِ عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس سے قبل وہ اسی نوعیت کے متعدد حملے افغانستان کے متعدد شہروں کی جیلوں میں کرچکے ہیں۔ جن میں اہم ترین حملہ قندھار جیل پر ۲۰۱۱ء میں کیا گیا تھا۔یہ ایک منفرد طرز کا حملہ تھا جس میں جیل تک جانے کے لئے ایک سرنگ کئی سو کلومیٹر تک کھودی گئی تھی۔اور یوں تقریباً پانچ سو قیدی چھڑالیے گیے تھے۔اس سے قبل قندھا رکی ہی ایک جیل میں حملے کے بعد ۹۰۰ قیدی چھڑایے گیے تھے۔ طالبان کے اس واضح جنگی حکمتِ عملی کے باوجود افغان حکومت جیلوں کا تحفظ کر نے میں ناکام ہو گئی ہے۔