پاک افغان تعلقات پر شکوک کے سائے گہرے ہونے لگے

abdullah-abdullah

پہلے سے ہی پستی کے شکار پاک افغان تعلقات میں گزشتہ دوروز میں مزید زوال آیا ہے۔ اور دونوں ممالک کی حکومتوں کی طرف سے ماضی میں ظاہر کی گئی خوش گمانیاں تیزی سے تحلیل ہو رہی ہیں۔ جس کا واضح اظہار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی طرف سے خطاب میں ہوا۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے 29 ستمبر بروز منگل اپنے خطاب میں کہا کہ ” ہم پاکستان سے اُن اقدامات پر عملدرآمد کرنے کا کہہ رہے ہیں جن کا ہم سے چند ماہ قبل وعدہ کیا گیا تھا، جس کے تحت پاکستانی رہنماؤں نے معلوم شدت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے پر اتفاق کیا تھا۔”

عبداللہ عبداللہ نے اپنے اس خطاب میں یہ بھی کہا کہ حملہ آور سرحد پار سے آتے اور اُن کے ملک کو غیر مستحکم کرتے ہیں۔ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو کا یہ خطاب ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب ایک روز قبل قندوز پر طالبان نے ایک کثیر الجہتی حملے میں اپنا قبضہ مستحکم کر لیا تھا۔ اس خطاب کا ایک دوسرا تناظر بھی ہے۔ یہ خطاب ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جس کی پاکستان شاید توقع نہ کر رہا ہو۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اس وقت اپنی تمام تر توجہ بھارت کے رویے پر مرکوز کر رکھی ہے۔ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے اقدامات پر اپنے جوابی اقدامات اُٹھا رہے ہیں۔ ایسے موقع پر افغانستان نے پاکستان پرتقریباً وہی الزام دُہرا دیا ہے جو بھارت عام طور پر عائد کرتا ہے۔

افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کے خلاف خطاب ایک ایسے وقت میں کیا جب پاکستان کی پوری توجہ بھارتی رویے اور اقدامات پر مرکوز تھی

دوسری طرف پاکستان بھی افغانستان سے کم وبیش اسی نوعیت کی شکایت رکھتا ہے۔ جس کا اظہار آج ہی کے دن پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے ہوا۔ جنرل راحیل شریف نے سینٹ کام ایشیا سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی میں یہ کہا کہ “آپریشن ضرب عضب کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے پاک افغان سرحد کومحفوظ بنانا ضروری ہے۔ پاکستان میں استحکام سے ہی علاقائی ممالک میں اقتصادی تعاون فروغ پزیر ہوگا۔ اسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری کے ثمرات میں حصہ داری کی جاسکے گی۔”

جنرل راحیل شریف کی جانب سے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کی بات کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس معاملے میں کوتاہی کی تمام ترذمہ داری افغانستان پر ہی عائد ہوتی ہے۔

صرف ایک روز قبل افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے بھی کچھ اسی نوع کے خیالات کا اظہار ہوا۔ جس نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر شکوک کے سائے مزید گہرے کیے۔ افغان صدر نے صرف ایک روز قبل 28 ستمبر کو اپنی مدت اقتدار کے ایک سال کی تکمیل پر ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات دو بھائیوں کے باہمی تعلق جیسے نہیں ہیں بلکہ یہ دو ریاستوں کے تعلقات ہیں۔ ”

مذکورہ انٹرویو میں افغان صدر نے پاکستان کے ساتھ اپنے دہرے رویے کو پوری طرح بے نقاب کیا اور اس میں پاکستان کے خلاف الزامات کو مختلف الفاظ کے ساتھ دُہرایا۔ اُنہوں نے یہ انٹرویو ایک ایسے وقت میں دیا جب طالبان نے قندوز پر چودہ سال بعد اپنا قبضہ واپس لیا۔ صرف دو روز کے ان واقعات پر ایک نظر ڈالی جائے تو پوری طرح واضح ہو جاتا ہے کہ پاک افغان تعلقات کس تیزی سے روبہ زوال ہے۔