وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

پاکستان دشمن بھارتی پالیسیاں

هفته 06 جون 2026 پاکستان دشمن بھارتی پالیسیاں

ریاض احمدچودھری

بھارت کی جنگی تیاریوں پر پاکستان حکومت اور افواج نے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری مکمل کر لی۔ بھارت کی پاکستان دشمن پالیسیوں پر عالمی طاقتیں خاموش، کیا دنیا نئی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔اسلام آباد نے بھارتی وزیر اعظم کے بیانات کو ‘گمراہ کن’ قرار دیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا کا امن و استحکام ‘بھارت کی ہٹ دھرمی اور تسلط پسندانہ عزائم کا یرغمال’ ہے۔ اس نے مودی پر تنازع کشمیر کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں پاکستان پر حسب معمول دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا الزام لگایا۔ نریندر مودی نے امریکی پوڈ کاسٹر لیکس فریڈمین کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ امن کے قیام کی بھارتی کوششوں کا جواب “دشمنی اور دھوکہ دہی سے ملا”۔
پوڈکاسٹ میں مودی سے سوال کیا گیا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سرد تعلقات ہیں اور اس کے مستقبل کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ تقسیم کے المناک واقعات کے بعد دونوں طرف خونریزی دیکھی گئی، لیکن اس کے باوجود، “ہم نے ان (پاکستان) سے جیو اور جینے دو کی توقع کی، تاہم انہوں نے ہمارے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ نہ رہنے کا فیصلہ کیا اور ہمارے خلاف پراکسی جنگ چھیڑ و”۔ بھارتی وزیر اعظم نے اپنے بیان میں پاکستان پر حسب معمول دہشت گردی کی سرپرستی کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ شاید ہی کبھی اسلام آباد میں دوطرفہ تعلقات کی بہتری کا خیال غالب آئے۔
پاکستان نے مودی کے ان تبصروں کو مسترد کرتے ہوئے بھارت پر الزام لگایا کہ وہ پاکستانی سرزمین پر عسکریت پسندی کو ہوا دینے اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اختلاف رائے کو دبانے میں ملوث ہونے کے ساتھ ہی خود کو “متاثر بتانے کی فرضی داستان” فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت خود “متاثرہ ہونے کی فرضی داستان” گھڑ کر پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی کو ہوا دینے اور بھارت کے زیر قبضہ (زیر انتظام) کشمیر میں ریاست کی سرپرستی میں ہونے والے جبر کو چھپا نہیں سکتا ہے”ْ۔
بھارت کی پہلگام حملے کو جواز بنا کر خطے میںدوبارہ جنگی ماحول پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی اور اسے سلسلے میں مودی نے افواج کو کسی بھی وقت، کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل آزادی دے دی۔ بھارتی کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کے مسلسل اجلاس میں پاکستان کے خلاف فوری اور اسٹریٹیجک اقدامات پر مشاورت کی جا رہی ہے۔بھارت نے پہلے بھی سندھ طاس معاہدے کو معطل کر کے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کھلی دھمکی دی جبکہ پاکستان کے شہریوں کو ملک بدر کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا بھارتی فیصلہ، نفرت انگیز پالیسیوں کا تسلسل ہے۔بھارت کی جانب سے دوبارہ سرجیکل اسٹرائیک یا بالاکوٹ جیسے حملے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ بھارتی فوج، فضائیہ اور بحریہ کو مکمل تیار باشی کا حکم، ایک اور مسلح تصادم کا خدشہ بڑھ گیا۔بھارت دہشتگردی کے جھوٹے بیانیے کو بنیاد بنا کر پاکستان پر الزام تراشی اور عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے دریا خشک ہونے کی بھارتی پروپیگنڈا مہم بھی جاری ہے۔ بھارت پانی کی قلت کو سیاسی ہتھیار بنا رہا ہے۔بھارتی وزراء کا جنگی بیانیہ، خود ساختہ خطرہ بنا کر عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے۔ مودی حکومت کی جارحانہ سوچ نے پورے خطے کو خطرے میں ڈال دیا، امن کی ہر کوشش سبوتاژ کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا۔بھارتی میڈیا پر پاکستان کو مٹی میں ملا دینے کی کھلم کھلا دھمکی دی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ بھارت جنگ کے لیے تیار ہے۔بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف آپریشن بدلہ شروع ہو جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے جموں و کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو تعمیری مشغولیت اور بامعنی بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے، بھارت کو غیر ملکی سرزمینوں پر ٹارگٹڈ قتل، تخریب کاری اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے اپنے ریکارڈ پر غور کرنا چاہیے۔پاکستان نے جموں و کشمیر کے بنیادی تنازع سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمیشہ تعمیری مشغولیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کی وکالت کی ہے، تاہم، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام بھارت کے سخت رویے اور تسلط پسندانہ عزائم کا یرغمال بنا ہوا ہے۔بھارت کی طرف سے پاکستان مخالف بیانیے نے دوطرفہ ماحول کو نہ صرف خراب کیا ہے بلکہ “امن اور تعاون کے امکانات کو بھی متاثر کیا، “جسے رکنا چاہیے۔
اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان تاریخی طور پر تعلقات بہت اچھے نہیں رہے ہیں اور جب سے بھارت میں نریندر مودی کی قیادت والی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے تب سے تو تعلقات نچلی ترین سطح پر ہیں۔بھارت اکثر پاکستان کے خلاف بیانات جاری کرتا رہتا ہے اور پھر بعد میں اسلام آباد کی جانب سے تردیدی بیان جاری ہوتا ہے۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

عشقِ رسول ۖ کی تجدید وجود پیر 08 جون 2026
عشقِ رسول ۖ کی تجدید

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت وجود پیر 08 جون 2026
ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

گائے کی سیاست اور مسلمان وجود اتوار 07 جون 2026
گائے کی سیاست اور مسلمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر