وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

گلگت میں عوامی شعور کے قتل کا منصوبہ

جمعه 05 جون 2026 گلگت میں عوامی شعور کے قتل کا منصوبہ

ب نقاب /ایم آر ملک

شعور کی جھولی میں دانستہ شکست ڈال کر عوامی پذیرائی کا دعویٰ محض سراب ہوا کرتا ہے۔ 8فروری کے عام انتخابات کے پس منظر میں موجودہ حالات کی اسکرین پر نہ مٹنے والی ”دھاندلی ” کی فلم میں جن اداکاروں کی واہ واہ ہوئی اور جو بھی ہیرو قرار پایا پس پردہ ہدایت کار کوئی اور طاقت ٹھہری ؟مسلم لیگ ن کی قیادت بھاری عوامی مینڈیٹ کے زعم میں حیران مگر عوامی کنفیوژن کا سدِ باب ایسی صورت میں ممکن نہیں ہوا کرتا، بھاری مینڈیٹ کے نام پر عوام کا کردار مسخ ہوا ؟
جب حقِ خود ارادیت کا قتل ہو تو اجتماعی شعور میں تبدیلی کا جنم ہوتا ہے، 8فروری کے الیکشن میں عمران خان کے امیدواروں کا نتیجہ انائونس ہو گیا مگر اُن کے نتائج تبدیل ہوچکے تھے ۔اُنہوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا کہ کب تک عوام کے حق خود ارادیت کا قتل ہوتا رہے گا ، عوامی رائے کو کب تک ایک مافیا سبو تاژ کرتا رہے گا ،آمرانہ ہتھکنڈے اور پیسے کا کھیل کب تک الیکشن کے نتائج کو تبدیل کرائے گا ؟ تخت ِ لاہور پر قبضہ کیلئے عوام کے حقِ خود ارادیت کوبھی نہیں بخشا گیا ،جہاں رات بارہ بجے تک صنف آہن ڈاکٹر یاسمین راشد کی مسلسل جیت یقینی نظر آرہی تھی پھر اچانک ایک بھگوڑا فارم 47 پر فاتح اعظم قرار پایا،کیا نارووال میں ہونے والی دھاندلی پر آنکھیں بند کر لینی چاہئیں ؟ خود مسلم لیگ ن کے ورکرز معترف ہیں کہ عمران کے امیدوار کے ساتھ عوام کھڑے تھے، کیا وطن عزیز کے 53فیصد حصہ پر ضیائی مارشل لاء سے اب تک بلا شرکت غیرے مسلم لیگ ن کی حکمرانی کا عفریت نہیں ناچتا رہا ؟
کیا گلگت بلتستان میں متوقع دھاندلی کے منصوبہ ساز اور الیکشن کا ابہام ہمیں اُس جانب لیکر نہیں جارہا جہاں عوام کی اکثریت اپنے اقرار کا فیصلہ گلیوں میں کرتے ہیں۔ ملکی سطح پر سیاست کی جو رفتار اُبھر کر سامنے آئی اُس نے بہت سے نئے اندیشے پیدا کر دیئے ہیں ،اسد قیصر ،جنید اکبر کے ساتھ ہونے والا سلوک حالات کی مشکیں کسنے والا ہے ،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے انتخابات میں جس خوشگوار سکون اور ہمواریت کی اُمید تھی وہ ابھی تک ناپید ہے ،دھاندلی کے پس منظر میں اضطراب کی لہریں برابر اُٹھتی اور بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ شہروں میںموجودہ عمران کے ساتھ کھڑے عوام کے احتجاج سے سیاسی تصادم کے نئے امکانات نمودار ہو ں گے ،سکندر سلطان راجہ کی روح یہاں بھی اپنے منحوس سائے کے ساتھ دندناتی پھر رہی ہے ، عوام اس بارنئے مخالفانہ سیاسی زاویئے بنانے میں منہمک ہیں اور اُن کے نقطہ نظر میں تنگ دلانہ مایوسی روز افزوں ہے ۔
کیا یہ صورت حال انتخابات کے نتائج سے پیدا ہونے والی جمہوریت طلب اُمیدوں اور آرزئو ں کیلئے اندیشوں اور خطرات سے خالی ہے؟8فروری کے الیکشن میں حقیقی تبدیلی کے انتظار میں عوام اُمید و بیم کی کیفیت سے دوچار ہوئے اور اس دوران ماضی کا روایتی مفاد پرست طبقہ اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب رہا ،مکمل نتائج کے اعلان سے قبل رات میاں برادارن کا اچانک ٹی وی چینلز پر نمودار ہونا اور وکٹری تقریر کیا علم نجوم کا شاخسانہ تھا ؟ ذرائع ابلاغ پر مسلط کو رچشم عناصر اس کا میا بی پر یوں شاداں و فرحاں تھے جیسے آسمان سے کوئی وحی نازل ہو گئی ہو، 9مئی کا خود ساختہ ڈرامہ در اصل اندر کا وہ خوف تھا جو انتخابی نتائج کو سبو تاژ کرنے کی منظم سازش کے ردِ عمل کے طور پر اُبھرنے والی ممکنہ تحریک کی شکل میں پیش نظر تھا ،ایک جوکر اور میثاق ِ جمہوریت کے چیمپیئن کی کارکردگی بکائو میڈیا کی نگاہ ناز کا شکار رہی، میاں برادران کے راتب پر پلنے والے قلمکار اُن کی ادائوں پر جی جان سے قربان ہوتے رہے ۔
گلگت کے الیکشن میں رجیم چینج کے ذریعے مسلط ہونے والوں کے دور ِ قہر مانی نے ملت کی آنکھیں کھول دی ہیں ، عوامی اکثریت اور نسل نو عزم ِ جواں لیکر اُٹھے گی ،اب 8فروری کی غنڈہ گردی ،دھاندلی کا وہ ڈرامہ شاید اپنی اگلی قسط پوری نہ کرپائے ،عوام سمجھتے ہیں کہ بلے کا نشان چھیننے والے منصف نے ضمیر کو شریفوں کی دہلیز پر یوں بیچا کہ ناانصافی بھی سر پیٹ کر رہ گئی ،نتائج کوبد لنے کا وہ مکروہ ،شرمناک اور انسانیت و اخلاق سوز کھیل کھیلا گیا کہ الا مان اور یہ کارن اُس وقت ہوا جب قوم نے اپنے ووٹ اور رائے کا وزن تحریک انصاف کے پلڑے میں ڈال دیا، وطن عزیز کے ایک سرے سے دو سرے سرے تک جس طرح ووٹ کی تقدیس پامال کی گئی ،بیلٹ بکسپر کراس کا نشان لگا ، ،تھوک کے حساب سے فارم 47پر نتائج مسخ ہوئے اُس نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبدار پر کالک مل دی ،اسے قبل کہ کوئی سانحہ جنم لے ،حکمران وقت کی آواز پر کان دھریں ،7مارچ 1977کے انتخابی نتائج کو بھی قوم نے ماننے سے انکار کر دیا صرف 19نشستوں کے نتائج سبو تاژ ہوئے تو اُس تحریک نے جنم لیا جس کی مثال بر صغیر میں مشکل سے ملے گی ۔
اما م الہند مولانا ابو الکلام آزاد نے کہا تھا ”تاریخ کی کوئی زبان بند نہیں کر سکتا وہ جو سبق دیتی ہے وہ صرف ایک قسم کا ہوتا ہے دنیا میں بہت سی حقیقتیں ایسی ہیں جنہیں انسان جانتا ہے اور ماننے کیلئے مجبور ہو تا ہے تاہم اُن کی صدائوں کو سننا پسند نہیں کرتا ،چاہتا ہے کہ لوگوں کی زبان سے اُن کو سنے، لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ اِن سب حقیقتوں کی آواز سننے پر مجبور ہو جاتا ہے اور زبان سے اُٹھتی ہوئی صدائیں نہیں بلکہ واقعات کے ہجوم سے پیدا شدہ طاقتیں اُس کے کانوں کو کھول کر بجلی کی کڑک اور بادل کی گرج کی طرح سب کچھ بتا دیتی ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

عشقِ رسول ۖ کی تجدید وجود پیر 08 جون 2026
عشقِ رسول ۖ کی تجدید

ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت وجود پیر 08 جون 2026
ہمسایہ ممالک میں بھارتی مداخلت

گائے کی سیاست اور مسلمان وجود اتوار 07 جون 2026
گائے کی سیاست اور مسلمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر