وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

اگر وقت تھک کر بیٹھ جائے ۔۔۔؟

جمعه 05 جون 2026 اگر وقت تھک کر بیٹھ جائے ۔۔۔؟

بے لگام / ستار چوہدری

ذرا تصور کیجیے !! ایک صبح آپ کی آنکھ کھلے اور دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں اسی جگہ ٹھہری ہوں جہاں رات کو تھیں۔ آپ موبائل اٹھائیں،
اس کی اسکرین پر بھی وقت منجمد ہو، شہر کی تمام گھڑیاں خاموش ہوں، مسجدوں کے اوقات بے معنی ہو جائیں، دفاتر کی حاضریاں ختم ہو
جائیں، اسکولوں کی گھنٹیاں بجنا بھول جائیں اور دنیا پہلی بار وقت کے بغیر جاگے ۔عجیب بات یہ ہے کہ سورج پھر بھی طلوع ہو رہا ہو، ہوائیں
پھر بھی چل رہی ہوں، پرندے پھر بھی اڑ رہے ہوں، مگر انسان بے چین ہو۔ کیوں؟ کیونکہ انسان کو اصل میں زندگی سے زیادہ وقت کی فکر
ہوتی ہے ۔ ہم نے زندگی کو کبھی منٹوں، گھنٹوں اور کیلنڈروں سے الگ ہو کر دیکھا ہی نہیں،ہم صبح اس لیے نہیں جاگتے کہ ایک نیا دن شروع ہوا ہے ، بلکہ اس لیے جاگتے ہیں کہ گھڑی نے ہمیں جگایا ہے ۔ ہم کھانا بھوک سے کم اور وقت پر زیادہ کھاتے ہیں، ہم اپنے بچوں کو بڑھتے
ہوئے نہیں دیکھتے ، ہم صرف ان کی عمریں گنتے ہیں۔ ہم اپنے والدین کے سفید ہوتے بالوں کو محسوس نہیں کرتے ، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ
وقت بہت تیزی سے گزر گیا۔ شاید اسی لیے اگر وقت ایک دن تھک کر بیٹھ جائے تو سب سے پہلے انسان بے نقاب ہوگا۔ اسے معلوم ہوگا
کہ وہ برسوں سے زندگی نہیں جی رہا تھا، وہ صرف وقت کے پیچھے دوڑ رہا تھا۔ اور ممکن ہے اسی خاموش دن میں، جب گھڑیاں بولنا چھوڑ دیں،
انسان پہلی بار اپنے دل کی آواز سن لے ۔وقت کے رک جانے کا سب سے بڑا نقصان شاید معیشت کو نہ ہو، کاروبار کو نہ ہو، بلکہ ان بہانوں کو ہو جو ہم نے اپنی زندگی کے گرد لپیٹ رکھے ہیں۔
”میرے پاس وقت نہیں ہے ” ۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ہم دن میں کئی بار بولتے ہیں، اور آہستہ آہستہ اس پر یقین بھی کر لیتے ہیں۔
ماں باپ بچوں کو وقت نہیں دے پاتے ، اولاد بوڑھے والدین کے پاس نہیں بیٹھ پاتی، دوست دوست سے نہیں مل پاتا، اور انسان اپنے
آپ سے بھی نہیں مل پاتا۔ ہر طرف ایک ہی عذر سنائی دیتا ہے ” وقت نہیں ہے ” ۔مگر اگر ایک دن وقت واقعی رک جائے تو کیا ہوگا؟
شاید پہلی بار انسان کو احساس ہو کہ مسئلہ وقت کی کمی نہیں تھا، ترجیحات کی کمی تھی۔ جس باپ نے برسوں اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا، !!ابھی
مصروف ہوں، وہ اچانک اس کے سامنے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس مصروف ہونے کا کوئی بہانہ نہیں ہوگا۔ جس بیٹے نے اپنی بوڑھی ماں
سے کہا تھا کہ امی !! فرصت ملی تو آؤں گا، وہ دیکھے گا کہ فرصت تو ہمیشہ موجود تھی، بس دل کہیں اور لگا ہوا تھا۔ اور پھر شاید بہت سے رشتے
خاموشی سے انسان کا محاسبہ شروع کر دیں، کیونکہ رشتے وقت نہیں مانگتے ، توجہ مانگتے ہیں، ہم نے وقت کو ایک دیوار بنا لیا ہے ، جس کے پیچھے
اپنی بے حسی، اپنی خود غرضی اور اپنی غفلت چھپا دیتے ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک لمحے کی محبت برسوں کی دوری پر بھاری پڑ
جاتی ہے ، اور بعض اوقات برسوں کی قربت بھی دلوں کے فاصلے کم نہیں کر پاتی، شاید وقت کے رک جانے کا سب سے خوبصورت منظر یہ ہو
کہ انسان دوڑنا چھوڑ دے ، وہ پہلی بار اپنے گھر کو گھر کی طرح دیکھے ، اپنے عزیزوں کو کیلنڈر کی تاریخوں کے بجائے دل کی نگاہ سے دیکھے ،
اور یہ سمجھے کہ زندگی کی اصل دولت بینک اکاؤنٹ میں نہیں، ان چہروں میں چھپی ہوتی ہے جو ہماری موجودگی کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر سوال
یہ ہے کہ اگر وقت رک جائے تو کیا صرف رشتے بدلیں گے ۔؟ یا پھر اقتدار، دولت اور شہرت کے وہ تمام بت بھی گرنے لگیں گے جن کی عبادت انسان صدیوں سے کرتا آیا ہے ؟
وقت رک جائے تو شاید سب سے زیادہ خوف اُن لوگوں کو محسوس ہو جنہوں نے اپنی پوری زندگی گھڑی کی سوئیوں پر کھڑی کی ہوتی ہے ۔
وہ حکمران جو اقتدار کے دن گنتے ہیں، وہ تاجر جو منافع کے اعداد شمار میں جیتے ہیں، وہ سرمایہ دار جو ہر گزرتے لمحے کو دولت میں تبدیل کرنا
چاہتے ہیں، اچانک ایک ایسی دنیا میں کھڑے ہوں گے جہاں نہ کل قریب آرہا ہوگا اور نہ آج گزر رہا ہوگا، تب انسان ایک عجیب حقیقت سے ٹکرائے گا، وہ حقیقت یہ کہ اقتدار کی اصل طاقت وقت سے مستعار لی جاتی ہے ۔ بادشاہ اس لیے طاقتور ہوتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ
اس کے پاس ابھی وقت ہے ۔ امیر اس لیے دولت جمع کرتا ہے کہ اسے لگتا ہے ابھی اور جمع کی جاسکتی ہے ۔ لالچی اس لیے مطمئن نہیں ہوتا
کہ اسے امید ہوتی ہے اگلا دن مزید کچھ دے جائے گا، مگر جب وقت آگے بڑھنے سے انکار کردے تو ”مزید ”کا لفظ اپنی موت مر جاتا ہے ،
پھر نہ کوئی اگلا الیکشن رہتا ہے ، نہ اگلی ترقی، نہ اگلا عہدہ، نہ اگلا منصوبہ۔ انسان پہلی بار اُس مقام پر کھڑا ہوتا ہے جہاں اس کے پاس صرف
وہی کچھ بچتا ہے جو اس نے واقعی حاصل کیا تھا، نہ کہ وہ جو حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ اور شاید یہی لمحہ سب سے تکلیف دہ ہو۔ کیونکہ
انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اُن چیزوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے گزار دیا جو ہمیشہ مستقبل میں تھیں۔ وہ حال
میں کبھی رہا ہی نہیں۔ وہ بچپن میں جوانی کا انتظار کرتا رہا، جوانی میں کامیابی کا، کامیابی کے بعد مزید کامیابی کا، اور پھر ایک دن بڑھاپے میں
بیٹھ کر سوچتا رہا کہ زندگی آخر گئی کہاں۔؟ وقت اگر تھک کر بیٹھ جائے تو شاید وہ انسان سے یہی سوال پوچھے ، تم مجھے پکڑنے کی کوشش کرتے رہے ، مگر کیا کبھی زندگی کو بھی پکڑنے کی کوشش کی تھی؟ اور اس سوال کا جواب شاید بہت کم لوگوں کے پاس ہو!!!
اور پھر، جب گھڑیاں خاموش ہوئے کافی دیر گزر چکی ہو، جب انسان اپنی دوڑ، اپنی مصروفیتوں، اپنے منصوبوں اور اپنے خوابوں کے
ملبے پر بیٹھ کر خود کو دیکھنے لگے ، تب شاید ایک اور حقیقت آہستہ آہستہ اس پر آشکار ہونے لگے ۔ وقت دراصل ہمارا دشمن نہیں تھا، ہم ساری عمر
وقت کو کوستے رہے ، کبھی کہا وقت کم ہے ، کبھی کہا وقت خراب ہے ، کبھی کہا وقت ساتھ نہیں دے رہا، مگر جب وقت خاموش ہوا تو معلوم ہوا کہ
مسئلہ وقت نہیں تھا، مسئلہ ہمارا طرزِ زندگی تھا، وقت تو ایک دریا کی طرح بہتا رہا، ہمیں موقع دیتا رہا کہ ہم محبت کرلیں، معاف کر دیں، سیکھ
لیں، بدل جائیں، کسی کا ہاتھ تھام لیں، کسی کے آنسو پونچھ دیں، کسی خواب کو حقیقت بنا لیں، مگر ہم دریا کے کنارے کھڑے صرف اس کی
رفتار ناپتے رہے ، ہم نے زندگی کو جینے کے بجائے ناپنے میں گزار دیا۔ اور شاید وقت کے رک جانے کا سب سے بڑا سبق یہی ہو کہ زندگی
کیلنڈر کے صفحات میں نہیں رہتی، وہ ان لمحوں میں رہتی ہے جو دل پر نقش ہو جائیں۔ انسان کی عمر اس کے سالوں سے نہیں، اس کے
احساسوں سے بنتی ہے ۔ بعض لوگ چالیس برس میں بھی زندگی نہیں جیتے ، اور بعض لوگ چند لمحوں میں ایک پوری زندگی سمیٹ لیتے ہیں، پھر
شاید وقت، جو تھک کر بیٹھ گیا تھا، خاموشی سے اٹھ کھڑا ہو۔گھڑی کی سوئی دوبارہ حرکت کرے ، شہر میں زندگی لوٹ آئے ، دفاتر کھل جائیں،
بازار آباد ہو جائیں، سڑکوں پر شور واپس آ جائے ، مگر امید یہی ہوگی کہ اس ایک دن کی خاموشی نے انسان کو کچھ سکھا دیا ہو، یہ سکھا دیا ہو کہ
وقت کا پیچھا کرتے کرتے زندگی کو مت کھو دینا۔ کیونکہ المیہ یہ نہیں کہ وقت تیزی سے گزر جاتا ہے ، المیہ یہ ہے کہ اکثر لوگ وقت کے گزرنے
تک جینا ہی شروع نہیں کرتے ۔ اور جب انہیں زندگی کی حقیقت سمجھ آتی ہے تو گھڑی کی سوئیاں بہت آگے نکل چکی ہوتی ہیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر